چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد کا کراچی میں مستحق خواتین کیلئے سوشل پروٹیکشن والٹس اور مفت سموں کے اجرا کا جائزہ

کراچی (پناہ نیوز)چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے ہفتہ کو کراچی میں مستحق خواتین کے سوشل پروٹیکشن والٹس کیلئے مفت سموں کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لینے کیلئے بی آئی ایس پی کے مختلف دفاتر اور مراکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے بی آئی ایس پی ڈسٹرکٹ آفس لیاری (سائوتھ)، چنیسر گوٹھ میں بی آئی ایس پی ڈائنامک رجسٹری سینٹر اور تحصیل آفس جبکہ نارتھ کراچی لیاقت آباد میں بی آئی ایس پی تحصیل آفس کا بھی دورہ کیا۔ دوروں کے دوران ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید، محترمہ شازیہ کریم اور ایم این اے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ٹاؤن آفس لیاری میں پارٹی کارکنان سے ملاقات بھی کی۔انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ لیاری میں رجسٹریشن کے لیے ایم آر وی کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور نادرا ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ عوام کو اس حوالے سے سہولیات میسر آسکیں۔اس موقع پر کنسلٹنٹ نوید خان نے بینظیر ہنرمند پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام (BBSYDP) کے اشتراک سے 3,000 بچوں/نوجوانوں کی اسکل ٹریننگ کے لیے رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ پروگرام میں 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد اہل ہیں جبکہ آن لائن رجسٹریشن جاری ہے۔چنیسر گوٹھ میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے مستحق خواتین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کی جانب سے ملنے والی مالی معاونت ان کا حق ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین پوری رقم گن کر وصول کریں اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ بی آئی ایس پی کی تمام سروسز بالکل مفت ہیں۔کسی بھی قسم کی اضافی رقم کے مطالبے یا ادائیگی میں کٹوتی کی صورت میں فوراً قریبی بی آئی ایس پی دفتر میں شکایت درج کروائیں۔لیاقت آباد میں بی آئی ایس پی تحصیل آفس کے دورے پر انہوں نے خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سوشل پروٹیکش والٹس کیلئے سمیں بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں جو صرف بی آئی ایس پی مراکز پر دستیاب ہیں اور بی آئی ایس پی کا تربیت یافتہ عملہ ہی خواتین کے ڈیجیٹل والٹس کو فعال کرے گا۔ ان سموں اور زیرِ استعمال موبائل فونز کی حفاظت کریں کیونکہ آئندہ تمام وظائف انہی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے جو ان خواتین کی ملکیت ہوگی۔



