گلگت چیف جج نے نادہندگان کو انتخابی عمل سے نااہل کردیئے
گلگت (پناہ نیوز)بینکنگ کورٹ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے معزز جسٹس ملک عنایت الرحمٰن نے نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے دائر درخواست پر اہم اور اصولی نوعیت کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے محمد علی اختر، جاوید حسین ، شخ محمد باقر،اظہر حسین منوا و دیگر متعدد نادہندگان کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نگر اور گلگت کو نا ہندگان کی جائیداد ضبط کر کے رپورٹ سمیت 23 فروری2026 کو از خود عدالت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیدیا تفصیلات کمطابق فاضل عدالت نے سنگل بینچ میں نیشنل بینک آف پاکستان کے وکیل محمد قاسم شہزاد ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیتے ہوئے کہا کہ جن افراد کے ذمے نیشنل بینک کے واجبات واجب الادا ہیں اور جو اپنے قرضہ جات کی ادائیگی میں قصداً غفلت یا ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، وہ انتخابی قوانین اور مالی شفافیت کے ناگزیر تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے افراد کا انتخابی عمل میں شریک ہونا قانون، انصاف اور انتخابی نظام کی تطہیر کے منافی ہے۔ معزز عدالت نے چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو یہ احکامات صادر کیے گئے کہ نادہندگان محمد علی اختر، جاوید حسین ، محمد باقر، اظہر حسین منوا اور دیگر متعلقہ اشخاص کے خلاف قرضہ جات کی عدم ادائیگی کے باعث انتخابی اہلیت کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور انہیں مقدمہ درج التوا ہونے کی صورت میں انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ان افراد کے خلاف متعلقہ قوانین اور الیکشن رولز کے تحت کارروائی کو فوری اور مؤثر بنایا جائے۔دوران سماعت نادہندگان کی جانب سے اورنگزیب خان اور زاہد علی بیگ نے اپنے موکلان کا دفاع کرتے ہوئے جوابی دلائل پیش کیے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیشنل بینک کے واجبات کی عدم ادائیگی ایک مالی بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے جسے انتخابی معیار کے تحت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ فاضل عدالت نے بینک کے موقف کو قانونی طور پر قابلِ بھروسا، وزنی اور قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں حکم صادر کر دیا۔عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ انتخابی عمل میں اہلیت کا معیار وہی امیدوار پورا کریں گے جو مالی شفافیت، قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل اور قرضہ جات کی بروقت ادائیگی جیسے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت کی گئی کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر مطلوبہ قانونی کارروائی کو فوری طور پر بروئے کار لایا جائے۔



